Rehman Dakait and the Lyari Gang: Rise, Rule, and Bloody End

rehman dakat

 

رحمان ڈکیت: لیاری کے بدنام ترین گینگسٹر کا عروج اور زوال

 


رحمان ڈکیت کون تھا؟

رحمان ڈکیت، جس کا اصل نام سردار عبدالرحمان بلوچ تھا، کراچی کے علاقے لیاری کا ایک بدنام ترین جرائم پیشہ شخص تھا۔ وہ پاکستان کی مجرمانہ تاریخ میں ایک خوف کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس کا نام لیاری کی گلیوں میں دہشت، خونریزی اور گینگ وارز سے جڑا رہا۔

لفظ "ڈکیت" خود اس کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ وہ قانون سے بالاتر ہو کر اپنی حکومت قائم کیے ہوئے تھا۔


ابتدائی زندگی اور پس منظر

رحمان ڈکیت کی پیدائش تقریباً 1980 میں لیاری، کراچی میں ہوئی۔ لیاری ایک ایسا علاقہ ہے جو طویل عرصے سے غربت، بے روزگاری اور حکومتی عدم توجہی کا شکار رہا ہے۔

رحمان کا خاندان پہلے ہی جرائم کی دنیا سے منسلک تھا۔ اس کے والد اور چچا منشیات کے کاروبار میں ملوث تھے، جس کی وجہ سے رحمان کم عمری میں ہی جرائم کی طرف مائل ہو گیا۔

کہا جاتا ہے کہ اس نے کم عمری میں ہی پہلا سنگین جرم کیا اور آہستہ آہستہ جرائم کی دنیا میں اس کا اثر بڑھتا چلا گیا۔


جرائم کی دنیا میں داخلہ

نو عمری میں رحمان ڈکیت اسلحہ، منشیات اور بھتہ خوری میں ملوث ہو گیا۔ لیاری میں موجود مختلف جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان طاقت کی جنگ جاری تھی، اور رحمان نے اسی ماحول میں خود کو ایک مضبوط کردار کے طور پر منوایا۔

جب لیاری کے ایک بڑے گینگ لیڈر حاجی لالو گرفتار ہوئے تو رحمان نے اس خلا کو پُر کیا اور اپنے گروہ کی قیادت سنبھال لی۔


لیاری گینگ وارز

رحمان ڈکیت کا نام لیاری گینگ وار کے ساتھ ہمیشہ جڑا رہے گا۔ اس دوران لیاری مختلف گروہوں میں تقسیم ہو چکا تھا، اور آئے دن فائرنگ، بم دھماکے اور قتل و غارت ہوتی تھی۔

اس کا سب سے بڑا مخالف ارشاد پپو تھا۔ دونوں کے درمیان دشمنی نے لیاری کو میدانِ جنگ بنا دیا۔ عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور پورا علاقہ خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا۔


جرائم اور خوفناک الزامات

رحمان ڈکیت پر درجنوں قتل، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور منشیات فروشی کے الزامات تھے۔

کچھ رپورٹس میں انتہائی خوفناک الزامات بھی سامنے آئے، جن میں یہ دعویٰ شامل تھا کہ اس نے اپنی ہی والدہ کو قتل کیا۔ اگرچہ ان دعوؤں پر اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن ان کہانیوں نے اس کی دہشت کو مزید بڑھا دیا۔


پیپلز امن کمیٹی اور سیاست میں داخلہ

2008 کے بعد رحمان ڈکیت نے اپنی شبیہ بدلنے کی کوشش کی اور پیپلز امن کمیٹی کے نام سے ایک تنظیم بنائی۔

یہ کمیٹی بظاہر لیاری میں امن کے قیام کے لیے تھی، مگر درحقیقت اس کے ذریعے رحمان نے اپنے اثر و رسوخ کو قانونی اور سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی۔

کہا جاتا ہے کہ اسے اس وقت کی پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے بعض حلقوں کی حمایت بھی حاصل تھی، جس کی وجہ سے وہ طویل عرصے تک قانون کی گرفت سے بچا رہا۔


❗ رحمان ڈکیت کو کس نے قتل کیا؟

رحمان ڈکیت کی موت

9 اگست 2009 کو رحمان ڈکیت کراچی پولیس کے لیاری ٹاسک فورس کے ساتھ ایک مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

سرکاری بیان کے مطابق:

  • پولیس نے اسے گرفتار کرنے کی کوشش کی
  • فائرنگ کا تبادلہ ہوا
  • رحمان ڈکیت شدید زخمی ہوا
  • بعد میں وہ ہسپتال میں دم توڑ گیا

تاہم:

  • کئی حلقے اسے فرضی پولیس مقابلہ (Encounter) قرار دیتے ہیں
  • اس واقعے پر آج بھی سوالات اٹھائے جاتے ہیں

رحمان ڈکیت کے بعد لیاری

رحمان ڈکیت کی موت کے بعد لیاری میں طاقت کا خلا پیدا ہوا، جسے بعد میں اس کے کزن عزیر بلوچ نے پُر کیا۔

لیاری میں تشدد کا سلسلہ کچھ عرصہ مزید جاری رہا، حتیٰ کہ بڑے پیمانے پر آپریشن کیے گئے۔


فلم اور میڈیا میں رحمان ڈکیت

2025 میں بننے والی فلم "دھرندھر (Dhurandhar)" میں رحمان ڈکیت کے کردار کو نمایاں کیا گیا، جس نے اس کی زندگی کو ایک بار پھر خبروں میں لا کھڑا کیا۔

یہ فلم حقیقی واقعات سے متاثر ہے، مگر مکمل طور پر تاریخی دستاویز نہیں۔


نتیجہ

رحمان ڈکیت کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ غربت، محرومی اور نظام کی ناکامی کس طرح ایک فرد کو جرائم کی دنیا میں دھکیل دیتی ہے۔

اس کی کہانی نہ صرف ایک مجرم کی کہانی ہے بلکہ کراچی جیسے شہر کے پیچیدہ سماجی مسائل کی عکاس بھی ہے۔


 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *