why humans die

man die

Table of Contents

انسان کیوں مرتا ہے؟

تعارف

موت ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر ذی روح پر لازم ہے۔ اسلام کے مطابق، موت زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک دوسرے مرحلے کی شروعات ہے۔ قرآن و حدیث میں موت کے بارے میں متعدد مقامات پر وضاحت کی گئی ہے، جو یہ بتاتی ہے کہ موت اللہ تعالیٰ کے ایک عظیم منصوبے کا حصہ ہے۔

1. زندگی اور موت کا مقصد

قرآن مجید واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ زندگی اور موت کو اللہ نے پیدا کیا تاکہ انسانوں کو آزمایا جائے:

"جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے، اور وہ غالب اور بخشنے والا ہے۔"
(سورۃ الملک، 67:2)

یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ زندگی اور موت بغیر مقصد کے نہیں بلکہ انسان کی آزمائش کے لیے ہیں تاکہ وہ اپنے اعمال کے ذریعے اپنی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرے۔

2. موت اللہ کا طے شدہ فیصلہ ہے

اسلامی تعلیمات کے مطابق موت نہ حادثاتی ہے اور نہ اتفاقیہ، بلکہ یہ اللہ کا طے شدہ حکم ہے:

"ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے، اور ہم تمہیں آزمائش کے طور پر برائی اور بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں، اور تم ہماری طرف لوٹائے جاؤ گے۔"
(سورۃ الانبیاء، 21:35)

یہ آیت یاد دلاتی ہے کہ ہر انسان کو موت کا سامنا کرنا ہے، جو دنیاوی زندگی کے اختتام اور آخرت کے سفر کا آغاز ہے۔

 

3. موت بطور رحمت

اسلام میں موت کو ایک رحمت کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے، خاص طور پر مومنوں کے لیے۔ یہ دنیاوی مشکلات اور آزمائشوں کا خاتمہ کرتی ہے اور دائمی سکون کا دروازہ کھولتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"مومن کے لیے تحفہ موت ہے۔"
(سنن الکبریٰ، البیہقی)

یہ حدیث ظاہر کرتی ہے کہ موت کو اللہ کے منصوبے کا حصہ سمجھ کر قبول کرنا چاہیے، خاص طور پر ان کے لیے جو نیک اعمال کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔

4. دنیا کی عارضی حیثیت

قرآن بار بار یاد دلاتا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے اور آخرت ہی دائمی ہے:

"اور یہ دنیاوی زندگی محض کھیل اور تماشہ ہے؛ اور آخرت ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟"
(سورۃ الانعام، 6:32)

موت ہمیں دنیا کی عارضی حقیقت کی یاد دلاتی ہے اور آخرت کی تیاری کے لیے متنبہ کرتی ہے۔

5. آخرت کی طرف سفر

اسلام سکھاتا ہے کہ موت مکمل فنا نہیں بلکہ ایک نئی زندگی کی طرف منتقلی ہے۔ مرنے کے بعد روح برزخ میں داخل ہوتی ہے، جو قیامت تک کا درمیانی مرحلہ ہے:

"اور ان کے پیچھے ایک پردہ (برزخ) ہے، یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے۔"
(سورۃ المومنون، 23:100)

برزخ میں روح اپنے اعمال کے اثرات محسوس کرتی ہے، جو اس کے آخری انجام کی جھلک فراہم کرتی ہے۔

6. موت سے نصیحت لینا

موت انسان کو اس کی فانی حیثیت اور نیک زندگی گزارنے کی اہمیت کی یاد دلاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"لذتوں کو ختم کرنے والی چیز (یعنی موت) کو کثرت سے یاد کرو۔"
(سنن ابن ماجہ، حدیث 4258)

موت پر غور انسان کو گناہوں سے بچنے، توبہ کرنے، اور نیک اعمال کی طرف راغب کرتا ہے۔

7. موت کے پیچھے حکمت

موت میں کئی الٰہی حکمتیں پوشیدہ ہیں:

  • آزمائش کا اختتام: موت انسان کی دنیاوی آزمائش کے خاتمے کی نشانی ہے۔

  • اللہ کا انصاف: موت کے بغیر انصاف ممکن نہیں۔ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا۔

  • زندگی کا تسلسل: موت کے ذریعے زندگی کا توازن برقرار رہتا ہے۔

  • اللہ کی طرف واپسی: موت انسان کو اس کے خالق کی طرف واپس لے جانے کا ذریعہ ہے۔

8. اللہ کے فیصلے پر اعتماد

اسلام میں موت کو اللہ کا فیصلہ سمجھ کر قبول کرنا ایک لازمی جزو ہے۔ قرآن کہتا ہے:

"کہہ دو: جس موت سے تم بھاگتے ہو، وہ تمہیں ضرور آ لے گی۔ پھر تم اس کے پاس لوٹائے جاؤ گے جو غیب اور ظاہر کا جاننے والا ہے، اور وہ تمہیں تمہارے اعمال کی خبر دے گا۔"
(سورۃ الجمعہ، 62:8)

اللہ کی حکمت پر یقین انسان کو سکون دیتا ہے اور آخرت کی تیاری کی طرف راغب کرتا ہے

اختتام

اسلام میں موت کو زندگی کے خاتمے کے بجائے ایک تبدیلی اور دائمی زندگی کی جانب سفر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ اللہ کے عظیم منصوبے کا حصہ ہے، جس میں انسان کو آزمائش اور انصاف کے عمل سے گزارا جاتا ہے۔ موت کی حقیقت کو سمجھنے سے انسان نیک اعمال کی طرف مائل ہوتا ہے اور اپنی آخرت کے لیے تیاری کرتا ہے۔

حوالہ جات:

  1. قرآن مجید: سورۃ الملک (67:2)، سورۃ الانبیاء (21:35)، سورۃ المومنون (23:100) وغیرہ۔

  2. احادیث: سنن ابن ماجہ، البیہقی۔

  3. اسلامی مفسرین: تفسیر ابن کثیر، امام غزالی کی کتاب "ذکر موت اور آخرت"۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *